29 جولائی 2026 - 05:54
اربعین کے موکبوں اور حسینی زائرین پر سعودی-امریکی مشترکہ حملے + ایک اہم نکتہ + ویڈيو

عراقی ذرائع نے بدھ کی صبح سعودی فوج کی جانب سے صوبہ کربلا صوبے میں اربعین حسینی کے مواکب اور زائرین پر میزائل اور توپ خانے کے حملوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکیوں اور سعودیوں نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے اور سعودی بادشاہت نے اپنی توانائی کی تنصیبات پر یمن کے تباہ کن حملوں سے درس عبرت لئے بغیر ـ امریکی دشمن کے ساتھ مل کر ـ عراق پر گستاخانہ حملوں پر فخریہ اعترافات کئے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عراقی ذرائع نے بدھ کی صبح سعودی فوج کی جانب سے کربلا صوبے میں اربعین حسینی کے مواکب اور زائرین پر میزائل اور توپ خانے کے حملوں کا اعلان کیا۔

سعودی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی فوج نے امریکی فوج سے ہم آہنگ ہوکر عراق میں مقاومتی تحریکوں پر حملے کئے ہیں۔

عراقی ذرائع "صابرین نیوز" اور "نایا" نے رپورٹ دی کہ بصرہ، واسط، نینویٰ اور کربلا کے صوبوں میں "الحشد الشعبی" کی افواج کے اڈے سعودی-امریکی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

اس سے قبل بھی امریکی فوج نے بدھ کی صبح تصدیق کی تھی کہ اس نے سعودی عرب کی فوج کے ہمراہ عراق میں مقاومتی تنظیموں کے اڈوں پر حملے کئے ہیں۔

سعودیوں کا گستاخانہ اعلان

سعودی وزارت دفاع نے بدھ کی صبح کہا کہ سعودی فوج نے امریکہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر، عراق میں مقاومتی تحریکیوں پر حملے کئے ہیں۔

سعودی وزارت دفاع نے کہا: "پیر اور منگل کو، فضائی دفاع نے متعدد ڈرونز کو روکا اور تباہ کیا جو مشرقی صوبے اور ریاض میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔"

اس بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ : "یہ دہشت گردانہ حملے عراقی سرزمین سے شروع ہوئے اور ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد ملیشیاؤں نے انجام دیئے۔ سعودی بادشاہت اپنے آپ اور اپنے وسائل کے دفاع کے لئے اپنے موروثی حق اور اپنی پسندیدہ وقت اور مقام پر جواب دینے کے حق پر زور دیتی ہے۔"

سعودی وزارت دفاع نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے ـ کہ عراق پر جارحیت بین الاقوامی قوانین میں اپنے دفاع کے حق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت کی گئی ہے، ـ  کہا: "سعودی عرب کی مسلح افواج نے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے ہم آہنگی کے ساتھ، اس بادشاہت کی تیل کی تنصیبات پر حملوں سے منسلک عراقی جمہوریہ میں تعینات ان ملیشیاؤں سے تعلق رکھنے والے اہداف کے خلاف درست حملے کئے۔"

اس بیان کے آخر میں دعویٰ کیا گیا ہے: "سعودی بادشاہت اس بات پر زور دیتی ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے کی خواہاں نہیں، لیکن وہ اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب دے گی۔"

اس سے چند منٹ قبل عراقی میڈیا نے رپورٹ دی تھی کہ بصرہ، واسط، نینویٰ اور کربلا کے صوبوں میں "الحشد الشعبی" کی افواج کے اڈے سعودی-امریکی حملوں کا نشانہ بنے۔

نکتہ:

امریکیوں اور سعودیوں نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے اور سعودی بادشاہت نے اپنی توانائی کی تنصیبات پر یمن کے تباہ کن حملوں سے درس عبرت لئے بغیر ـ امریکی دشمن کے ساتھ مل کر ـ عراق پر گستاخانہ حملوں پر فخریہ اعترافات کئے ہیں۔

سعودی عرب نے یمن کی میزائل اور ڈرون طاقت کو ـ جس نے امریکہ کو بحیرہ احمر سے پسپا ہونے پر مجبور کیا ـ نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اوپر ہونے والے حملوں کو عراقی مقاومت سے جوڑ دیا، اور پھر ایران پر الزامات لگائے لیکن عراقی تنظیموں نے ان الزامات کو مسترد کیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے سعودی وزارت دفاع کو نصیحت کی کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور نادانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران پر الزامات نہ لگائے۔ عراقی تنظیموں اور ایرانی افواج نے سعودیوں سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ہم تمہارے مفادات پر حملہ کریں تو بیان جاری کرکے اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن بہرحال سعودیوں نے نادانی کا ثبوت دیتے ہوئے اس بار جنگ کا دائرہ وسیع تر کر دیا اور اب اسے صرف یمنی افواج کے حملوں سے خطرہ نہیں ہوگا کیونکہ اب انہوں نے خود ہی عراقی تنظیموں کو جوابی حملوں کو جواز فراہم کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha